ایک جانب ریلی تو دوسری جانب کوئٹہ میں صفِ ماتم بچھ گئی،کئی خاندان اجڑ گئے

کوئٹہ(این این آئی)ایک جانب ریلی ،دوسری جانب ماتم،خوفناک دھماکہ،15افراد شہید، 30سے زائد زخمی ہوگئے، تفصیلات کے مطابق ایک طرف لاہور میں ن لیگ کی ریلی زور و شور سے جاری ہے جبکہ دوسری جانب بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سیکورٹی فورسز کی گاڑی کے قریب دھماکے میں 15افرادشہید جبکہ 30کے قریب زخمی ہوگئے دھماکے سے قریب موجود گاڑیوں،موٹرسائیکلوں اوررکشاؤں میں میں آگ بھڑک اٹھی۔تفصیلات کے مطابق ہفتہ کی رات کوئٹہ کے علاقے پرانے پشین اسٹاپ کے قریب نامعلوم افراد نے سیکورٹی فورسز کی

گاڑی کو دھماکے کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 15افراد شہید جبکہ 30کے قریب زخمی ہوگئے دھماکے کے بعد فورسز کی گاڑی سمیت دیگر قریب سے گزرنے والی گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی فائر بریگیڈ کے عملے نے موقع پرپہنچ کر آگ پر قابو پالیا گیا۔ دھماکے کے فوری بعد فرنٹیر کور بلوچستان اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لیکرنعشوں اورزخمیوں کو سول ہسپتال کوئٹہ پہنچادیا گیا جہاں 8سے 9افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔دھماکے سے 2گاڑیاں،4رکشے اور 2موٹرسائیکلیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں جبکہ قریبی عمارتوں اور دفاتر کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے دھماکہ اتنا شدید تھا کہ پورا شہر لرز اٹھا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ خود کش بمبار نے سیکورٹی فورسز کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ وزیرداخلہ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ نامعلوم دہشت گردوں نے سیکورٹی فورسز کی گاڑی کو نشانہ بنایا ہے فی الحال یہ کہنا قبل ازوقت ہوگا کہ دھماکہ خود کش تھا یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ دھماکے کے بعد بم ڈسپوزل کے عملے ا ور پولیس نے ابتدائی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ دھماکے کے بعدصوبائی وزیر صحت میر رحمت صالح بلوچ کی ہدایت پر سول ہسپتال کوئٹہ اور بولان میڈیکل ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو ڈیوٹیوں پر طلب کرلیا گیا جنہوں نے ڈیوٹی پر آکر زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی۔دھماکے کے بعدشہربھرمیں سیکیورٹی سخت کردی گئی مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کردیاگیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں