نہاتے ہوئے صرف ایک منٹ یہ کام کریں تو تمام دردیں دور ہوجائیں گی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)طویل بحث چلی آ رہی ہے کہ ٹھنڈے پانی سے نہانا زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے یا گرم پانی سے نہانا. اب سائنسدانوں نے تحقیق کے بعد دونوں طریقوں سے نہانے کے حیران کن فوائد بیان کر دیئے ہیں.میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ ”گرم پانی میں نہانے سے انسان کے جسم میں کیلوریز جلتی ہیں اور اسے موٹاپے سے نجات ملتی ہے جبکہ ٹھنڈے پانی سے نہانے سے انسان کا مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے اور ڈپریشن سے نجات ملتی ہے.“ رپورٹ کے مطابق کئی ایتھلیٹ اور کھلاڑی اپنے پٹھوں کی تکلیف سے نجات پانے کے لیے یخ بستہ پانی سے نہاتے ہیں. 64سالہ کامیڈین و اداکارہ روبی ویکس آج بھی نوجوان نظر آتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ”میں نوجوان نظر آنے کے لیے ٹھنڈے پانی سے نہاتی ہوں. اس سے میری جلد تروتازہ ہوجاتی ہے اور چھائیوں سے نجات ملتی ہے.سائنسدانوں نے اگرچہ اس تحقیق میں گرم اور ٹھنڈے دونوں طرح کے پانی سے نہانے کے فوائد بتائے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس سے بھی بڑھ کر نہاتے ہوئے گرم پانی سے یک دم سرد پانی میں منتقل ہونا اور پھر گرم کی طرف چلے جانا حقیقی فوائد کا حامل ہوتا ہے. سائنسدانوں کے مطابق یہ ایک تکنیک ہے جو کنٹراسٹ واٹر تھراپی کہلاتی ہے. اس تکنیک میں آدمی کو 20منٹ تک نہانا ہوتا ہے. جس میں پہلے تین سے چار منٹ گرم پانی سے نہائے اور پھر گرم پانی بند کرکے یکدم ٹھنڈا پانی کھول لے اور اس میں ایک منٹ تک نہائے اور پھرٹھنڈا پانی بند کرکے واپس گرم میں نہانا شروع کر دے.گرم پانی کے نیچے بیٹھنے یا کھڑے ہونے سے جلد اور پٹھوں میں موجود خون کی نالیاں کھلتی ہیں.آکسیجن سے بھرپور خون کا بہاؤ بہتر ہوتا ہے. اس کے بعد اچانک ٹھنڈے پانی میں چلے جانے سے خون کی وہی نالیاں اچانک سکڑ جاتی ہیں اور خون کے بہاؤ میں کمی آ جاتی ہے. پھر جب آدمی گرم پانی میں جاتا ہے وہ واپس آکسیجن سے بھرپور خون کی فراہمی شروع ہو جاتی ہے. یہ طریقہ پمپ کی طرح کام کرتا ہے جس سے پٹھوں، بافتوں اور جلد کو آکسیجن سے لبریز خون کی فراہمی ممکن ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں