جس جس کو یہ بیماری ہے وہ تر بو ز اور کھجو ر کیساتھ کھا ئیں

نبی کریمﷺ تربوز‘ کھجور کے ساتھ کھایا کرتے تھے، اس کو ترمذی ابودائود نے بیان کیا کہ آپ فرماتے تھے کھجور کی گرمی تربوز کی سردی سے ختم کی جائے گی اور اس کی سردی کھجور کی گرمی سے ختم کی جاتی ہے، تربوز کا مزاج سرد تر ہے، یہ مقوی اعصاب، دماغ اور قلبہے، حکماء جانتے ہیں صفراء گرمی کا علاج سرد تر سے گرم تر ہے. اعصاب دماغ کو محرک کر کے صفراء کا اخراج کرنا ہی درست علاج ہے، لہذا تربوز دماغ و اعصاب کو محرک کرتا ہے، کھجور کی کیفیت گرم تر ہے یہ جگر کی پیدا کردہ رطوبت صفرا (گرمی) کو پیدا

بھی کرتی ہے اور خارج بھی کرتی ہے جب تربوز اور کھجور کو ملا کر کھایا جائے گا تو یہ شدید پیشاب آور دواء کی صورت میں کام کرے گا اور جسم میں رکے ہوئے مواد کو خارج کرے گا،پیشاب کے ذریعے اور پاخانے کے ذریعے یہ دونوں غذا مشینی تحریک پیدا کرنے والی غذا ہیں، ان کا کام جسم سے فاضل حرارت جو ہماری ضرورت سے زیادہ ہے اس کو خارج کرنا اور صفراوی علامتوں کو بھی دفع کرنا ہے مثلاً گھبراہٹ‘ قلب کی دھڑکن تیز (پلپی ٹیشن) ہونا‘ پیلا یرقان‘ سوزاک‘ ہاتھ پائوں کی جلن، الرجی، دھپڑی، بلڈ پریشر ہائی ان تمام علامتوں کو دور کرتا ہے،نیز اس(تربوز اور کھجور ) سے یورک ایسڈ کولیسٹرول اور شوگر کنٹرول ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں