’’ آقا کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ‘‘ عید الفطر کے وہ مسنون اعمال جو آ پ کو معلوم نہیں ہونگے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)عید کی رات اوریوم عید کی صبح کو تکبیرات پڑھنے کا خاص اہتمام کرناچاہئے.حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعا ء رد نہیں کی جاتی جمعہ کی رات ، رجب کی پہلی رات، شعبان کی پندھرویں رات عیدالاضحی اور عید الفطر کی راتیں.(مصنف عبدالرزاق ج۴ ص ۳۱۷)نماز عید سے پہلے غسل کرنا ،عمدہ لباس زیب تن کرکے خوشبولگاکر گھرسے نکلناچاہئے.حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے آپ فرمائے کہ حضور ﷺ عیدالفطر اور عید الاضحی کے دن غسل فرمایا کرتے

تھے. حضرت ابن مسیبؓ سے روایت ہے آپﷺ فرمائےعید کے دن مسواک کرنا سنت ہے. (مصنف عبدالرزاق ج ۳۰۸)عمدہ سے عمدہ کپڑے جو پاس موجود ہوں وہ پہننا.خوشبو لگانا.صبح سویرے اٹھنا. عید گاہ جانے سے پہلے صدقہ فطر دے دینا.حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ آپ فرمائے کہ حضور ﷺ عید الفطر کے دن چند کھجور کھائے بغیرنماز عید کے لئے تشریف نہیں لیجاتے تھے اور آپ ﷺ ان کھجوروں کو طاق عدد میں تناول فرماتے تھے.حضرت علیؓ سے روایت ہے آپ فرمائے عید گاہ کو پیدل جانا سنت ہے .حضرت محمد بن عبداللہ بن ابو رافعؓ اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نماز عید کے لئے پیدل تشریف لیجا یاکرتے تھے اور جس راستہ سے جاتے تھے اس کے علاوہ راستہ سے واپس ہوتے تھے.راستے میں اﷲ اکبر اﷲ اکبرلا الہ الا اﷲ واﷲ اکبر اﷲ اکبر وﷲ الحمدپڑھنا ، جہاں عید کی نماز پڑھی جائے وہاں نماز سے پہلے اور بعد کوئی اور نماز پڑھنا مکروہ ہے،نماز ِ عید کے لئے عید گاہ جانا سنت ِمؤکدہ ہے، نبی کریم ﷺ اپنی مقدس مسجد کو انتہائی فضیلت کے باوجود عیدین کے دن چھوڑ دیتے تھے اور عید گاہ تشریف لے جاتے تھے. نماز عیدین عیدگاہ ہی میں اداکرنا چاہئے کیونکہ یہی ہمارے نبی ﷺ کی سنت ہے.(متفق علیہ)نمازعید سے پہلے اوراس کے بعد کوئی سنت اورنفل نماز نہیں ہے.(متفق علیہ)

اپنا تبصرہ بھیجیں