وقت پلک جھپکنے سے واقعی گزرجاتا ہے، سائنس نے بھی اردو کا محاورہ سچ ثابت کردیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وقت کی رفتار کسی کے قابو میں نہیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ ہمارا دماغ مخصوص کیفیات میں اسے معمول سے زیادہ تیزی کے ساتھ گزرتا ہوا محسوس کرتا ہے. یہ حیران کن انکشاف پیرس ڈیکارٹ یونیورسٹی کے سائنسدان مارک ویکسلر نے اپنی حالیہ تحقیق میں کیاہے.میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق مارک ویکسلر کا کہنا ہے کہ جب ہم اپنی آنکھوں کو جھپکتے ہیں تو ہمیں وقت کے تیزی سے گزرنے کا احساس ہوتا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ اتنی تیزی سے نہیں گزررہا ہوتا. انہوں نے اس معاملے کی جانچ کیلئے ایک تجربے کا

اہتمام کیا جس کے دوران کچھ نوجوانوں کو ایک کمرے میں بٹھا کر مختصر وقفے کیلئے لائٹ آف کرکے دوبارہ آن کی گئی. نوجوانوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اس وقفے کے دوران اپنی آنکھوں کو جھپکیں. بعد میں ان سے پوچھا گیا کہ تاریکی کا وقفہ کتنا تھا تو ان کا خیال تھا کہ یہ چار سے چھ سیکنڈ تھا جبکہ دراصل یہ صرف ایک سیکنڈ تھا. اس کے برعکس جب تحقیق کے شرکاء نے تاریکی کے وقفے کے دوران آنکھیں نہیں جھپکیں تو وہ وقت کا درست اندازہ لگانے میں کامیاب رہے. مارک ویکسلر کا کہنا تھا کہ یہ دریافت اس لحاظ سے انتہائی اہم ہے کہ اس کی مدد سے ہمیں یہ جاننے کا موقع مل سکتا ہے کہ ہمارا دماغ پلکیں جھپکنے کے دوران ہونے والی تاریکی اور کھلی آنکھوں کے دوران نظر آنے والی روشنی کے درمیان مطابقت کیسے پیدا کرتا ہے. ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ آنکھیں جھپکتے ہوئے ہمارے دماغ کو تاریکی کا سگنل ملتا ہے لیکن ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں جاگنے کے دوران تاریکی کے ان مختصر وقفوں کا احساس نہیں ہوتا کیونکہ ہمارا دماغ پلک جھپکنے کے دورانیے کوقدرے تیزی سے گزرتا محسوس کرتا ہے اور یوں ہم تاریکی کے مختصر وقفوں کو محسوس نہیں کرپاتے. اسی طرح ہم کئی گھنٹے سوکر جاگتے ہیں تو بھی دماغ سونے کے وقفے کو تیزی سے محو کرتے ہوئے جاگنے سے پہلے اور جاگنے کے بعد کے وقت کو آپس میں جوڑ دیتا ہے اور یوں ہماری گزشتہ اور اگلے روز کی زندگی کا نقشہ ہمارے دماغ میں بغیر کسی تعطل کے قائم رہتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں