طواف کے دوران خانہ کعبہ کے 7 چکر ہی کیوں لگائے جاتے ہیں؟ ایمان افروز تحریر

لاہور(نیوز ڈیسک) جونہی باب الفتح یا کسی اور دروازے سے گزر کر آپ حرم کے اندر داخل ہوتے ہیں سامنے سے اندر نظر پڑتی ہے۔ جھروکوں سے سوہنے کے گھر کا ہلکا سا دیدار ہوتا ہے۔ تو دل کی جو کیفیت ہوتی ہے وہ بیان سے باہر ہے۔ پتھر سے پتھر دل بھی موم ہو جاتا ہے اور کفر پاش پاش ہو جاتا ہے۔ ہم خراماں خراماں ہجوم سے راستہ بناتے آگے پہنچے تو سارے پردے ایک دم وا ہو گئے۔ نہ کوئی بندہ رہا نہ بندہ نواز۔ اللہ کا گھر، خانہ کعبہ بالکل آنکھوں کے سامنے آگیا۔ آنکھیں ساکت ہو گئیں۔ بیت اللہ پہ جم گئیں، ادھر اُدھر ہٹنے کا نام نہ لے رہی

تھیں۔ زبان گنگ، عشق و مستی کے سفر کا یہ کلائمیکس ہے۔لاکھوں کا ہجوم حجرِ اسود کی طرف دیکھ کر سلام کرتے ہوئے اللہ کی بڑائی اور عظمت بیان کرتا نظر آتا ہے۔ سات چکر کیوں؟ سات زمین اور سات آسمان، ماں کے پیٹ سے زمین کے پیٹ میں آنے تک زندگی کی منزلیں سات، قرآن کی منزلیں سات۔ سبع مثانی، یعنی قرآن کی قرأت سات طرح سے ، براعظم سات ، ہفتے میں دن سات ، سعی کے چکر سات ، جمرات کوسات کنکریاں سات بار، سات کا ہندسہ متبرک ہے، مقدس ہے، مقام والا ہے، اسی لیے طواف کے چکر بھی سات ہیں۔ عیدین کی تکبیریں سات ہیں اور سات برس کی عمر میں بچوں کو نماز پڑھنے کی ترغیب دلانے کا حکم ہوا ہے ۔ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مرض میں سات مشکیزہ پانی سے غسل کرانے کے لیے فرمایا ۔ اللہ نے قوم عاد پر طوفانِ باد وباراں سات رات تک جاری رکھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں