حضرت آدم علیہ السلام نے اپنی عمر کے چالیس سال کس نبی کو دے دیئے تھے؟

مدینہ (نیوز ڈیسک) مٖغربی میڈیا اسلام کو بنیادبنا کر منفی پراپیگنڈا کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا لیکن حققیت یہی ہے کہ اسلام سےزیادہ پرامن ، دوسروں کے حقوق اور قربانی دینے کا سب سے زیادہ درس اسلام ہی دیتا ہے اور یہ سلسلہ حضرت آدمؑ سے شروع ہوا اورآج تک جاری ہے اور رہے گا، جس کا اعتراف قصص الانبیاء میں بھی کیاگیا۔ تفصیل کے مطابق ’مشہور محدث حاکم نے اپنی کتاب مستدرک میں ایک روایت نقل کی ہے جس کا مضمون یہ ہے : اللہ کے رسول محمد ﷺ کے صحابی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے

ہیں کہ رسول اکرم حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا: عالمِ بالا میں جب حضرت آدم علیہ السلام کی صلب سے ان کی ذریت کو نکال کر ان کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے ایک خوبصورت چمکتی ہوئی پیشانی والے شخص کو دیکھ کر دریافت کیا: پروردگار یہ کون شخص ہے ؟ جواب ملا: تمہاری ذریت میں سے بہت بعد میں آنے والی ہستی داؤد (علیہ السلام ) ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا: اس کی عمر کیا مقرر کی گئی ہے؟ ارشاد ہوا کہ ساٹھ سال۔ حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا: الہٰی میں اپنی عمر کے چالیس سال اس نوجوان کو بخشتا ہوں، مگر جب حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کا وقت آپہنچا تو حضرت آدم علیہ السلام نے ملک الموت سے کہا کہ ابھی تو میری عمر کے چالیس سال باقی ہیں۔ فرشتہ موت نے کہا: آپ بھول گئے آپ نے اس قدر حصہ عمر اپنے ایک بیٹے داؤد (علیہ السلام) کو بخش دیا تھا اوریوں حضرت داؤد علیہ السلام کی عمر سوسال کی ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں