راول ڈیم، ہزاروں من مچھلیاں پانی میں زہریلا مواد ہونے سے مر گئیں، یہ کام کس نے اور کیوں کیا؟ حیرت انگیز انکشافات

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد میں راول ڈیم کے پانی میں نامعلوم افراد نے مبینہ طور پر زہریلا مواد ڈال دیا جس کے نتیجے میںتین روز میں ڈیم میں موجود ہزاروں من مچھلیاں مرگئیں ٗ محکمہ فشریز کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیاجبکہ واسا نے کہاہے کہ پانی میں زہریلے مواد کے شواہد نہیں ملے ٗ اگر اس قسم کی اطلاع ملی تو شہریوں کو فوری مطلع کریں گے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں راول ڈیم کے پانی میں نامعلوم افراد نے مبینہ طورپر زہریلا مواد ڈال دیا ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں من مچھلیاں مر گئیں ذرائع کے

مطابق زہریلے مواد کے تعین کیلئے پانی کے نمونے این آئی آر سی کو بھجوادئیے گئے ہیں۔پولیس کے مطابق ڈیم انتظامیہ کی جانب سے مقدمے کیلئے تھانہ سیکرٹریٹ کو درخواست موصول ہوئی اور لیبارٹری ٹیسٹ کی رپورٹ آنے کے بعد ہی مقدمے کا فیصلہ کیا جائیگا۔دوسری جانب راول ڈیم کے پانی میں زہرملانے کا معاملہ کا تھانہ سیکرٹریٹ میں مقدمہ درج کرلیا ہے اور مقدمہ محکمہ فشریز کی مدعیت میں درج کیا گیا ایف آئی آر میں کہاگیا کہ مافیا کو مچھلیاں پکڑنے سے روکنے پراس نے راول ڈیم کے پانی میں زہرملایا۔ایف آئی آر کے مطابق راول ڈیم میں مچھلیاں پکڑنے اورکشتی رانی پر پابندی ہے ۔ایف آئی آر میں کہاگیا کہ مافیا کو اس غیرقانونی طور پر مچھلیاں پکڑنے اورکشتی رانی سے روکا گیا ۔ایف آئی آر میں کہاگیا کہ راول ڈیم میں مبینہ طور پرزہریلا مواد ایک مافیہ کی جانب سے ڈالا گیا ادھر ایم ڈی واسا نے کہا کہ پانی میں زہریلے مواد کے شواہد نہیں ملے اگراس قسم کی اطلاع ملی تو شہریوں کو فوری مطلع کریں گے انہوںنے کہاکہ واسا کو پانی زہریلا ہونے کی اطلاع سمال ڈیم آرگنائزیشن دیتا ہے،ترجمان واسا نے کہاکہ راول ڈیم سے آنے والے پانی کا روزانہ ٹیسٹ کیا جاتا ہے ترجمان کے مطابق راول ڈیم کے پانی میں زہریلے موادسے متعلق ابھی تک متعلقہ ادارے نے اطلاع نہیں دی۔دوسری جانب ڈپٹی کمشنر اسلام آباد مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ راول ڈیم کے پانی کا لیبارٹری ٹیسٹ کروالیا ہے جس سے پتہ چلا ہے کہ ڈیم کا پانی مضر صحت نہیں ۔ میئر اسلام آباد شیخ انصر کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے شہریوں کوخان پوراورسملی ڈیم سے پانی فراہم کیاجاتاہے، راول ڈیم کا پانی راولپنڈی کے شہریوں کو دیا جاتا ہے اور اس ڈیم کا انتظام اور کنٹرول پنجاب حکومت کے پاس ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں