مادر ملت فاطمہ جناح ؒ اور آزادی ۔۔۔۔۔ ڈاکٹر تصور حسین مرزا

اسلامی جموریہ پاکستان عظیم نعمت ہے۔ 14 اگست 2017 پاکستانی قوم 71 واں یوم آزادی محبت ، لگن اور قومی جوش و جزبہ سے منانے کی پوری تیاریوں میں مگن ہے۔ آزاد اور خودمختار قومیں اپنے محسنوں کو کبھی بھی فراموش نہیں کرتیں مگر افسوس ہم نے اپنے محسنوں کو وہ عزت و احترام نہیں دیا ۔ جو ان کا حق بنتا ہیں ۔ تاریخ کے اوراق کو دیکھا جائے تو رونا آتا ہے !آج بات کرتے ہے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح ؒ کی 1965 ء کے صدارتی انتخاب کے موقع پر ایوب خاں کی نکتہ چینی کے جواب میں مادر ملت نے خود کہا تھا کہ ایوب فوجی

معاملات کا ماہر تو ہو سکتا ہے لیکن سیاسی فہم و فراست میں نے قائد اعظم سے براہ راست حاصل کی ہے اور یہ ایسا شعبہ ہے جس میں آمر مطلق نا بلد ہے۔کہتے ہیں ’’ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے ‘‘ اپنے پرائے چھوٹے بڑے عورت مرد اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ نے پاکستان جیسی عظیم نعمت بابائے قوم محمد علی جناح ؒ کے وسیلے سے عطا کی ہے ۔ اور محمد علی جناح کو قائد اعظم بنانے والی کوئی اور نہیں بلکہ وہ ہی عورت ہے جو بابائے قوم محمد علی جناح کی بہین محترمہ فاطمہ جناح ؒ ہے !1965ء کے بعد رونما ہونے والے واقعات مادرملت کے اس بیان کی تصدیق کرنے کے لئے کافی ہیں مگر ہم نے مادرملت محترمہ فاطمہ جناح ؒ کے سیاسی تجربات و مشاہدات سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ مثال کے طور پر مادر ملت نے جن خطرات کی بار بار نشاندہی کی ان میں سے چند ایک یہ ہیں:
نمبر ایک : امریکہ کی بڑھتی ہوئی مداخلت۔
نمبر 2: بیرونی قرضوں کے ناقابل برداشت دباؤ۔
نمبر 3 :غربت اور معاشی نا ہمواریوں کے خطر ناک اضافے۔
نمبر 4 :مشرقی پاکستان اور دیگر پس ماندہ علاقوں کی حالت زار۔
نمبر5 :ناخواندگی اور سائنٹیفک تعلیم کے بارے میں حکومت کی مجرمانہ خاموشی۔
نمبر 6 :نصابات میں اسلامی اقدار اور خاص کر قرآنی تعلیمات کا فقدان۔

نمبر7 :جمہوری اور پارلیمانی دستور کی تشکیل میں تاخیر۔
نمبر8 :خارجہ پالیسی کے یک طرفہ اور غیر متوازن رویے۔
ایمانداری اور وطن کی محبت سے سرشار ہو کر جو بھی سوچے گا ۔ وہ محترمہ فاطمہ جناح کی اعلیٰ سیاسی بصیرت کا قائل ہی ہوگا۔اور کیا آج ہم ان مسائل کی چکی میں پس نہیں رہے ؟ امادر ملت ڈاکٹر محترمہ فاطمہ جناحؒ31جولائی 1893ئکو کراچی شہر کے علاقہ کھارادر میں

پیدا ہوئیں۔ آپ کی پیدائش کے وقت قائد اعظم محمد علی جناحؒ اپنی تعلیم کے سلسلے میں لندن گئے ہوئے تھے۔ انہیںلندن اطلاع دی گئی تھی تو انہوں نے اس خبر پر خوشی کا اظہار کیا اور لکھا کہ وہ بہت جلد تعلیم مکمل کرکے وطن واپس آرہے ہیں۔قائد اعظم محمد علی جناح کے والد جناح پونجا کے انتقال کے بعد گھر کی قیادت کی ذمہ داری محمد علی جناحؒ کے کندھوں پر براہ راست آگئی۔ انہیں ننھی فاطمہ جناحؒ سے بہت پیار تھا جسے وہ پیار سے ’’فاطی‘‘ کہہ کر بلاتے تھے۔ آپ لندن سے تعلیم حاصل کر کے آئے تھے اور آپ کھلے دل و دماغ کے مالک تھے ۔

انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی بہن کو کانونٹ سکول میں پڑھائیں گے۔ ان کے خاندان میں لڑکی کے لیے اعلیٰ تعلیم خاص طور پر انگریزی تعلیمی اداروں میں جانا اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اس فیصلے پر نکتہ چینی شروع ہوگئی تو ننھی فاطمہ بھی بددل ہوگئی۔ یہ صورت حال محمد علی جناحؒ کے لیے خوشگوار نہیں تھی۔ انہوں نے آنے بہانے باندرہ کانونٹ سکول کے علاقے میں سیر کے لیے جانا شروع کردیا۔ وہاں صاف ستھرے ملبوسات میں لڑکیوں کو پڑھتا اور کھیلتا دیکھ کر فاطمہ جناحؒ کے دل میں بھی ایسے ہی تعلیمی ادارے میں جانے کی خواہش پیدا ہوئی۔

چنانچہ انہیں نو سال کی عمر میں 1902ئمیں باندرہ کانوونٹ سکول بمبئی میں داخل کرادیا گیا۔ اتنی تاخیر سے داخلے کی وجہ ظاہر ہے کہ رشتہ داروں کی توں توں میں میں نکتہ چینی اور فاطمہ جناحؒ کی دل برداشتگی تھی۔ رشتے داروں کی نظروں اور تنقید سے دور رکھنے کے لیے فاطمہ جناحؒ کو وہیں بورڈنگ ہاؤس میں داخل کرادیا گیا جہاں ان کے ساتھ باقاعدہ رابطہ رہتا۔ 1906ئمیں انہیںسینٹ پیٹرک سکول کھنڈالہ میں داخلہ دلوایا گیا۔ وہاں بھی وہ بورڈنگ ہاؤس میں رہیں۔1910ء میں انہوں نے میٹرک پاس کرلیا۔اس کے بعد وہ بھائی کے ساتھ رہنے لگیں۔

محمد علی جناحؒ صبح ہائی کورٹ جاتے وقت فاطمہ جناحؒ کو ساتھ لیتے اور راستے میں اپنی بہن مریم عابدین پیر بھائی کے گھر چھوڑ دیتے اور واپسی پر ساتھ لے لیتے۔ اس دوران بھائی کی شفقت اور رہنمائی سے لطف اندوز ہونے کے علاوہ فاطمہ جناح نے مطالعہ جاری رکھا اور 1913ء میں بطور پرائیویٹ امیدوار سینئر کیمبرج کا امتحان پاس کرلیا۔ اسی طرح بہن بھائی کا وقت گزرتا گیا۔1919ء میں فاطمہ جناحؒ نے محمد علی جناحؒ سے مشورے کے بعد کلکتہ کے احمد ڈینٹل کالج میں داخلہ لے لیا۔ وہاں بھی ان کا قیام ہاسٹل میں رہا حالانکہ ان کی بڑی بہن

وہاں مقیم تھیں۔ تین سال بعد سند لے کر ڈاکٹر محترمہ فاطمہ جناحؒ واپس بمبئی آئیں ۔مادرملت محترمہ فاطمہ جناح کی موت بھی ایک سوالیہ نشان ہے؟ اس موضوع پر حقائق سے پردہ پھر کبھی اٹھایا جائے گا ۔کہ مرحومہ کی موت طبی تھی یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟مادر ملت کی قبر قائد اعظم کے مزار سے ایک سو بیس فُٹ دور بائیں جانب کھودی گئی۔ قبر ساڑھے چھ فٹ لمبی اور تین فٹ چوڑی تھی۔ زمین پتھریلی تھی اس لیے گورکنوں کو قبر کھودنے میں پورے 12 گھنٹے لگے، جبکہ بعض اوقات انہیں بجلی سے چلنے والے اوزاروں سے زمین کھودنی پڑتی۔بیس گورکنوں کی

قیادت ساٹھ سالہ عبدالغنی کر رہا تھا، جس نے قائد اعظم، لیاقت علی خان اور سردار عبدالرب نشتر کی قبریں تیار کی تھی۔ مرحومہ کی پہلی نمازِ جنازہ قصرِ فاطمہ میں ساڑھے آٹھ بجے مولانا ابنِ حسن چارجوئی نے پڑھائی اور پھر جب ان کی میت پونے نو بجے قصرِ فاطمہ سے اٹھائی گئی تو لاکھوں آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔ قصرِ فاطمہ کے باہر دور دور تک انسانوں کا سمندر نظر آرہا تھا۔ میت کو کندھوں پر اٹھایا گیا تو ہجوم نے مادرِ ملت زندہ باد کے نعروں کے ساتھ آگے بڑھنا شروع کر دیا۔جنازے کے پیچھے مرکزی حکومت اور صدر ایوب کے نمائندے

شمس الضحیٰ وزیر زراعت خوراک، بحریہ کے کمانڈر انچیف ایڈمرل ایم احسن، دونوں صوبوں کے گورنروں کے ملٹری سیکریٹری، کراچی کے کمشنر، ڈی آئی جی کراچی، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اراکین اور تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما سر جھکائے آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے تھے۔ محترمہ فاطمہ جناح کی میت ایک کھلی مائیکرو وین میں رکھی گئی تھی۔ اس کے چاروں طرف مسلم لیگ کے نیشنل گارڈز کے چار سالار کھڑے تھے۔ ایک عالم دین بھی موجود تھے۔ جو سورہ یاسین کی تلاوت کر رہے تھے۔ غم و اندوہ میں ڈوبا ہوا یہ جلوس جب ایک

فرلانگ بڑھ گیا تو مسلم لیگ نیشنل گارڈز نے ایک قومی پرچم لا کر مرحومہ کے جسد خاکی پر ڈال دیا۔اگر ہم نے مادر ملت مرحومہ و مغفورہ فاطمہ جناح ؒ کی اعلیٰ سیاسی بصیرت ، عقل و دانش سے فائدہ اٹھایا ہوتا تو آج ہم حقیقی آزاد اور خود مختار قوم ہوتے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں