پاکستان دائیں اور بائیں بازو کی سیاست کا عمومی جائزہ۔۔۔۔ افتخار بھٹہ

حالیہ چوتھائی صدی کے دوران پاکستان کی سیاست سے نظریاتی اور منشور خارج ہو چکے ہیں کیونکہ مقبول عام پارٹی یا لیڈر شپ کوئی قابل عمل نظریات اور عام آدمی کی سماجی اور معاشی حالت سدھارنے کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتی ہے ان جماعتوں کی لیڈر شپ کا تعلق سرمایہ دارانہ یا جاگیر دارانہ طبقات سے ہے یہ سرمایہ دارانہ سیاست عجیب و غریب تضادات سے دو چار ہے س کا میدان جنگ ملک کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب ہے جہاں کے شمالی وسطی حصہ لے لوگ ملازمت پیشہ روز گار کیلئے بیرون ملک اور صنعت و کار وباری کی وجہ

سے خوشحال اور تعلیم یافتہ ہیں جبکہ جنوبی پنجاب جو کہ سماجی ترقیاتی کاموں کے حوالے سے کبھی حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل نہیں رہا ہے وہاں پر لوگ جاگیر داروں کی جکڑ بندی کی وجہ سے غریب اور پسماندہ ہیں جنوبی پنجاب کے لوگ عرصہ دراز سے سرائیکی صوبہ کا مطالبہ کر رہے ہیں جو کہ شائد انتظامی امور کی تقسیم ہوگی کیونکہ موجودہ سرمایہ دارانہ اجارہ داریوں کی موجودگی میں سماجی اور معاشی انصاف کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا شمالی پنجاب کے لوگ ہمیشہ آمریتوں یا ان کے جا نشینوں کا ساتھ دیتے ہیں راولپنڈی شہر جہاں پر تین وزیر اعظموں کا قتل عام ہوا ان کی سیاست وہاں پر ہمدردی حاصل نہیں کر سکی جس کو پیپلزپارٹی کی انتخابات میں ناکامی کے تناظرمیں دیکھا جا سکتا ہے پیپلز پارٹی جو کسی زمانے میں غریبوں کے حقوق کی بات کرتی تھی وہ 2013کے انتخابات میں وفاقی سیاست کی تقسیم سے صوبہ پنجاب صوبہ سندھ تک محدود ہو چکی ہے ہمارے ملک میں نچلے طبقے کی سیاست کئی دہائیوں سے دبائو میں رہی ہے پیپلزپارٹی 1977کے انتخابات کے بعد پنجاب میں حکومت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے جبکہ بائیں بازو کے گروپ اور جماعتیں اپنے خود ساختہ نظریاتی حصار سے باہر نکل کر عوامی رابطے نہیں کرنا چاہتے وہ بس سوال پر سوال فرسودہ ایشوز پر نظریاتی بخث کیے جا رہے ہیں ان میں سے بیشتر نے اپنی غربت مٹانے کی خاطر این جی اوز میں پناہ لے لی ہے وہ اب لبرل ازم کے حامی بن چکے ہیں اصل میں بائیں بازو کے لوگوں کو نقصان سویت یونین کے بکھر جانے کے بعد ہوا جبکہ دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ نے بد مست ہاتھی کی طرح اپنی مہم جوئی کے ذریعے اسلامی دنیا کو برباد کرنے کی کوشش کی ، آج اسلامی دنیا کئی دھڑوں میں بٹ چکی ہے مسلمان ملک ایک دوسرے کو فتح

کرنا چاہتے ہیں تیسری دنیا کے روشن فکر اور ترقی پسند دوستوں کیلئے سویت یونین کا بکھر جانا ایک بڑا المیہ تھا جس سے آئیڈیل ازم دھڑام سے نیچے آ گر کچھ نئے نظریات سے انحراف کر لیا دو سال قبل بچے کچے لوگوں نے پاکستان ورکرز پارٹی تشکیل دی کچھ پہلے ہی پیپلزپارٹی میں شامل ہو کر سرمایہ دارانہ سیاست کی نظر ہو گئے ۔جو بچے ہیں وہ نظریات کی ہاری ہوئی جنگ کے جیتنے کی توقع لگائے ہوئے ہیں آج کل تیسری دنیا اور پاکستان میں دائیں بازو کی سیاست کا تذکرہ ہو رہا ہے دراصل حکمران طبقات کی بات ہو رہی ہے جس میں

الزم تراشی دروغ گوئی کے علاوہ کچھ نہیں اورعوام کے مسائل کے حل کا کوئی تذکرہ نہیں ہے پچھلے 30سالوں میں پاکستان کا حکمران طبقہ تبدیل ہو چکا ہے آخر ہمارے حکمران کس طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں پاکستان میں 1968*69کی تحریک کے دوران عوامی حقوق اور نظریات کے ابھار کی سیاست سامنے آئی جس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی وہ مساوات کے حوالے سے سوشل ازم کا نعرہ تھا مگر 1977کے انتخابات میں جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کو ٹکٹ دینے سے پارٹی کارکن ناراض ہوئے نظریاتی کے پر خے اُڑ گئے بے نظیر

کا مارکیٹ اکانومی کے نیو لبرل ایجنڈے کو تسلیم کرنا دراصل نظریاتی انحراف تھا اسی طرح زرداری کی مصلحت پسندی کی سیاست نے جیالوں اور نظریاتی کو پچھلی صفوں میں دھکیل دیا ملک میں علامتی بائیں بازو کے حوالے سے سیاست زوال پذیر ہوئی جبکہ موجودہ حکمران طبقے کے ہر ادارے میں ضیاء الحق کے دور سے نصاب اساتذہ صحافی میڈیا پرسن اور ٹی وی چینلز موجود ہیں اُن میں کچھ سابق لبرل ترقی پسند حضرات بھی شامل ہیں جو کہ جمہوری اقدار کی مضبوطی کے نام پر نواز شریف کی حمایت کر رہے ہیں دوسری طرف مڈل

لاس کے وہ تعلیم یافتہ طبقات ہیں جن کی روایات اور طرز معاشرت پرانی کاروباری مڈل کلاس سے متصادم ہے اس طرح یہ تمام متشدد بنیاد پرستی اور اشتعال انگیزی کی سیاست کر رہے ہیں ، اور کسی بغیر مقصد کے خیالات کا ایجنڈا اٹھا کر لیڈر شپ کے آئیڈیل ازم کے سہر کا شکار ہیںاو ر پاکستان کے تمام اداروں کوفتح کرنے پر تلے ہوئے ہیں جن کی سیاست میں اعلیٰ اخلاق کی بات بڑے زور سے کی جاتی ہے عورتوں کے حقوق کو اجاگر کرنے کیلئے کردار تلاش کیے جاتے ہیں یہ لوگ اصولی نظریہ قانون اور انسانی قدروں کو نہیں مانتے ہیں

ماضی میں مذہب کے نام پر سیاست کرنے والی جماعتوں نے یونیورسٹیوں میں انتہا پسندی کو فروغ دیا جہاد پاکستان میں نظریاتی اور افرادی حصہ ڈالا جس میں مخصوص مسلک سے تعلق رکھنے والی دوسری جماعتیں شامل تھیں جنہوں نے قبایلی علاقوں اور صوبہ پنجاب میں مدارس قائم کیے جس نے ملک میں ایک نئے سیاسی بیانئے کو ریاست کی مدد سے پروان چڑھایا جس سے مسجدوں مزاروں جنازوں سکولوں امام بار گاہوں اور قانون نافذ کرنے والے اور سلامتی کے ادارے محفوظ نہیں رہے ہیں یہی وجہ ہے دہشت گردیوں کی دھمکیوں کی وجہ سے

ہمارے سیاست دان مصلحت پسندی سے دو چار ہیں اور اپنے مذہبی ووٹ ووٹ کے ناراض ہونے سے خوف زدہ ہیں ریاستی بیانیے کی تشریح کا کام مذہبی گروپوں کو سونپنا ایک خطر ناک کام تھا جس کی وجہ سے یہاں پر متشدد رویوں میں ابھار پیدا ہوا یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے پارلیمنٹ کے اندر موجود دائیاں بازوں بالخصوص مسلم لیگ ن ریاستی اداروں کیخلاف محاذ آرائی کرتی ہوئی دیکھائی دی ہے اور اب نظریات کی بھی بات کر رہی ہے، سراج الحق اور فضل الرحمن کی سیاست کا خلاء بندوق بردار انتہا پسندوں نے پر کر لیا ہے جماعت الدعوۃ نے بھی

ملی مسلم لیگ کے نام پر سیاسی جماعت بنا رہی ہے اب یہ تمام لوگ طبقات جمہوریت کی بات کر رہے ہیں یہ جماعتیں اب جنگی ترانوں سے گریز کر رہی ہیں یہ کوئی معمولی تبدیلی نہیں ہے یہ الگ بات ہے کہ پارلیمنٹ نے ان کے خامیوں کی تعداد کم ہے دیکھنے کی بات ہے کہ عالمی سرمایہ داری نظام کب تک جاری رہے گا نظریاتی کے خاتمے کی بات کرنے والے کبھی کسی نظریاتی سماجی تحریک کا حصہ نہیں رہے ہیں، ہمارے حکمرانوں کی کوشش ہے کہ پاکستان میں طبقاتی نظام کا تسلسل رہے یہ بات کیا کم ہے کہ سیاسی بائیاں بازو اپنے سابقہ

موقف سے ہٹ رہا ہے عوام میں کچھ نہ کچھ جمہوری اقتدار کی ضروریات اداروں کے اختیارات اور دائرہ کار کے بارے میں جاننے لگے ہیں دائیں بازو کے حکمران طبقے کی طرف سے سٹیٹ کو کو جاری رکھنا نا ممکن بنایا جا رہا ہے پیپلزپارٹی کو اس بدلتے ہوئے معروض میں سوشل ڈیمو کریسی کے ٹھوس ایجنڈے کے ساتھ سامنے آنا چاہیے تا کہ ملک میں پسے ہوئے طبقات کی نمائندگی ہو سکے۔
تحریر: افتخار بھٹہ

اپنا تبصرہ بھیجیں