ہماری “آمرانہ” جمہوریت – افتخار شاہین

یہ بات تو تقریباً غیر متنازع فیہ ہے کہ آمریت میں قوم کا مزاج بگڑجاتا ہے اور ریاست کی اولین ترجیح زیادہ اور “اندھے” فالورز پیدا کرنے پر ہو جا تی ہے۔ جس کی وجہ سے بظاہر سڑکوں اور پلوں کے ذریعے انفرا اسٹرکچر کی ترقی کے باوجود قوم ذہنی افلاس اور فکری بانجھ پن کا شکار ہو جا تی ہے۔ یہی عرب بہار کے بعد لیبیا، سعد برے کے بعد صومالیہ اور صدام حسین کے بعد عراق کا مسئلہ ہے۔ آمریت کے ہوتے ہوئے بظاہر اقتصادی اور سماجی اشاریے کچھ اور دکھاتے ہیں ڈکٹیٹر کے مجسمے زمین بوس ہوتے ہی زیر زمین انار کی ابل پڑتی ہے جو کہ

اصل میں متبادل قیادت کے موجود نہ ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔مملکت خداداد میں بظاہر جمہوریت ہوتے ہوئے نتائج عملاً آمریت والے ہی ہیں اور چند استثنائی صورتوں کوچھوڑکر اکثر سیاسی پارٹیوں میں نظریات کی جگہ فرد واحد سے وفاداری ہی سیاسی کیریئر کے لیے لازم ہے۔ جب حالت یہ ہو تو سیاسی جماعتوں کو کارکن کم اور اندھے پیروکاروں کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے اور غیر مشروط اطاعت ہی “جمہوری ثمرات ” سمیٹنے کے لیے لازمی سیڑھی تصور کی جاتی ہے۔ طلبہ یونین اور بلدیاتی انتخابات کے عدم تسلسل کی وجہ سے سیاست میں عملی تجربہ گاہوں سے ہو کر آنے والوں کا راستہ روکا گیا تو ڈرائنگ رومی مفکرین، ٹاک شوز کے دانشور، حادثاتی سیاستدان یا کھیل اور کسی شعبۂ زندگی میں خدمات کو بنیاد بنا کر کوچۂ سیاست کے مسافر ہی دستیاب مال کے طور پر حاضر بلکہ فائز ہیںسب یہ سوچنے کا وقت ہے کہ ہمیں اس معاشرے کو کس سمت لے کر جانا ہے کیونکہ ریاست معاشرے ہی کی ارتقائی شکل ہے۔ جمہوری رویّوں کے بغیر ایسے معاشرے کی تشکیل دیوانے کا خواب ہی ہے جہاں باہمی برداشت موجود ہو اور اس کے عملی مظاہر ہمیں روزانہ ہی دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔ سیاسی رہنماؤں کا فریق مخالف کو گالیاں دینا اب اپنی پارٹی میں ترقی کا زینہ سمجھا جاتا ہے جس کی چند مثالیں تحریک انصاف میں مولانا فضل الرحمٰن کے بارے میں استعمال کردہ زبان، باچاخانی “عدم تشدد” کے پرچارکوں کی جانب سے سید مودودی کے نام لیواؤں کے خلاف اور جماعت اسلامی کے پیروکاروں کی جانب سے سرخوں پر طنز و تشنیع کرنے سے ظاہر ہیں۔ پھر “نون” اور “جنون” کے درمیان جو سوکنوں والا بیر ہے، وہ نہ ہی پوچھیں تو بہتر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں