اسرائیل کی مسجد اقصی کو اہم اسلامی ملک کی سرپرستی سے نکالنے کی سازش بے نقاب

غزہ (آئی این پی )فلسطین کی حکمراں جماعت تحریک فتح کے ایک سرکردہ رہ نما نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل اردن کو مسجد اقصی کی سرپرستی سے محروم کرنے کی ایک گھنائونی سازش تیار کی ہے، اسرائیلی حکام نے مسجد اقصی کے پہرے داروں کے ناموں کی فہرست طلب کی ہے اور ساتھ ہی کہا ہے کہ وہ مسجد اقصی کے محافظوں کی تقرری اپنی مرضی سے کرنا چاہتے ہیں، قبلہ اول کے محافظوں کی فہرست طلب کرنامسجد کے انتظامی امور، فلسطینی محکمہ اوقاف اور اردن کی سرپرستی کے حق میں کھلم کھلا اسرائیلی مداخلت ہے۔منگل

کومرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ایک بیان میں فتحاوی رہ نما حانم عبدالقادر نے کہا کہ اسرائیلی حکام نے مسجد اقصی کے پہرے داروں کے ناموں کی فہرست طلب کی ہے اور ساتھ ہی کہا ہے کہ وہ مسجد اقصی کے محافظوں کی تقرری اپنی مرضی سے کرنا چاہتے ہیں۔ فتح کے رہ نما کا کہنا ہے کہ قبلہ اول کے پہرے داروں کی تقرری کا حق اردن سے سلب کرنا مسجد کی سرپرستی اور نگرانی سے محروم کرنے کی کوشش ہے۔ مسجد اقصی کے پہرے داروں اور محافظوں سمیت قبلہ اول کی دیکھ بحال پرمامور تمام افراد کی تقرری کا حق فلسطینی محکمہ اوقاف اور اردن کے پاس ہے۔خیال رہے کہ حال ہی میں اسرائیلی حکومت نے فلسطینی محکمہ اوقاف سے کہا تھا کہ وہ مسجد اقصی کے تمام محافظوں کی مکمل تفصیلات فراہم کریں۔ اسرائیل ان محافظوں کی چھان بین کرے گا۔حانم عبدالقادر نے کہا کہ قبلہ اول کے محافظوں کی فہرست طلب کرنا مسجد کے انتظامی امور، فلسطینی محکمہ اوقاف اور اردن کی سرپرستی کے حق میں کھلم کھلا اسرائیلی مداخلت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فتح کے رہ نما کی حیثیت سے ہم صدر محمود عباس اور اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ دوم کے درمیان طے پائے اس معاہدے سے متفق ہیں جس میں مسجد اقصی کی سرپرستی کا حق اردن کو دیا گیا ہے۔خیالرہے کہ اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نے گذشتہ سوموار کو رام اللہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے بھی ملاقات کی۔ سنہ 2012 کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ راملہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں