تیسری عالمی جنگ۔۔۔شمالی کوریا نے امریکہ پر حملے کی تیاری کرلی، تشویشناک صورتحال

پیانگ یانگ (آئی این پی )شمالی کوریا نے کہا ہے کہ وہ بحرالکاہل میں امریکی جزیرے گوام کو میزائل سے نشانہ بنانے کے بارے میں غور کر رہا ہے،شمالی کوریا کی سرکاری میڈیا میں یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کے بعد آیا کہ شمالی کوریا کو ‘آگ اور غصے’ کا سامنا کرنا ہوگا۔بدھ کو شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی کے سی این اے نے کہا کہوہ گوام پر درمیانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے راکٹ داغنے کے منصوبے پر غور کر رہا ہے۔ نیوز ایجنسی کے مطابق شمالی کوریا گوام کے پاس کے علاقوں کو حصار میں لینے

والی آگ کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان تازہ ترین پیغام میں جاری ہونے والے ایک فوجی بیان کا ذکر تھا جو کہ بظاہر گوام میں امریکی فوجی مشق کے جواب میں آیا تھا۔خیال رہے کہ گوام میں امریکہ کے جنگی بمبار طیارے تعینات ہیں اور حالیہ دنوں ان کے درمیان شدید قسم کی بیان بازیوں کا سلسلہ چل نکلا ہے۔حال ہی میں اقوام متحدہ نے شمالی کوریا پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی قرارداد کو متفقہ طور پر تسلیم کیا تھا جس پر پیانگ یانگ نے اپنی ‘خود مختاری کی متشدد خلاف ورزی’ سے تعبیر کرتے ہوئے امریکہ کو اس کی ‘قیمت چکانے’ کی دھمکی دی تھی۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاتھا کہ اگر جنوبی کوریا نے امریکہ کو مزید دھمکی دی تو اسے ‘ آگ اور غصے’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔نیو جرسی میں منگل کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا ‘شمالی کوریا امریکہ کے خلاف مزید دھمکیاں دینا بند کرے ورنہ اسے ایک ایسی آگ اور غصے کا سامنا کرنا ہو گا جسے دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی۔امریکی صدر کا یہ بیان واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں امریکی انٹیلیجنس کے اہلکاروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پیانگ یانگ نے اپنے میزائلوں کے اندر فٹ ہونے والے چھوٹے کیمیائی وار ہیڈ تیار کر لیے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ شمالی کوریا امریکہ کی توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے کیمیائی ہتھیار تیار کر رہا ہے جو امریکہ کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ نے سنیچر کو متفقہ طور پر شمالی کوریا کے خلاف پابندیوں کی توثیق کی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں