ڈاکٹر عبدالسلام، پہلے پاکستانی نوبل انعام یافتہ۔۔۔عاصمہ عزیز

عبدالسلام پاکستان کے چھوٹے سے قصبے جھنگ میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد شعبہ تعلیم میں زراعت کے ضلع میں سرکاری ملازم تھے۔ آپ کا خاندان سیکھنے اور حصول علم کی روایت کا حامل تھا۔ ۴۱ سال کی عمر میں میٹرک میں شاندار کامیابی حاصل کرنے کے بعد لاہور سے گھر واپسی پر آپ کا استقبال پورے جوش و خروش سے کیا گیا۔ ۶۴۹۱ ؁ ء میں یونیورسٹی آف پنجاب سے سکالرشپ حاصل کرکے ایم اے کیا۔۶۴۹۱ ء میںہی ایس ٹی جاہن کالج کیمبرج کی جانب سے آپ کو سکالرشپ سے نوازا گیاجہاں آپ نے ریاضی اور فزکس میں بی اے (آنرز )

کی ڈگری حاصل کی ۔ ۰۵۹۱ ء میں کیمبرج یونیورسٹی کی طرف سے نہایت شاندار پریڈاکٹرل کے طور پر سمتھ پرائز سے نوازا گیا۔ آپ نے کیمبرج یونیورسٹی سے ہی نظریاتی طبیعات (تھیوریٹیکل فزکس) میں پی ایچ ڈی کیا۔۱۵۹۱ ء میں شائع ہونے والے تھیسز نے انھیں بین الاقوامی شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا ۔ اس تھیسز میں آپ نے کوانٹم الیکٹرو ڈائنیمکس پر بنیادی کام کیا۔ آپ بیسویں صدیں کے اہم پاکستانی نظریاتی طبیعات دان ہیں۔ ۹۷۹۱ء میں ڈاکٹر عبدالسلام کو شیلڈن گلاسگواورسٹیون وینبرگ کے ساتھ مل کر الیکٹرویک یونیفیکیشن تھیوری میں شراکت پر فزکس میں نوبل انعام سے نوازا گیا۔ آپ پہلے پاکستانی اور اسلامی ملک کے دوسرے نوبل انعام یافتہ ہیں۔ ۰۶۹۱ ء کے دوران آپ نے شیلڈن گلاسگو اور سٹیون وینبرگ کے ساتھ مل کر دو مختلف قوتوں یعنی برقی مقناطیسی فورس اور کمزور (ویک) فورس کو متحد کیا ۔ ویک فورس جو کہ ایٹموک نیوکلس سے بھی کم فاصلے پر کام کرتی ہے جبکہ برقی مقناطیسی فورس بڑے فاصلے تک پہنچ سکتی ہے جیسے ستاروں کی روشنی پوری کہکشائو ں تک پہنچتی ہے۔ ان دونوں قوتوں کی طاقت کے موازنے سے پتا چلتا ہے ویک فورس دس ملین بار مقناطیسی قوت سے کمزور ہے ۔ اس کے باوجود ان دونوں قوتوں کو متحد کرنا بیسویں صدی کی سب سے اہم دریافتوں میں سے تھا۔ ۰۶۹۱ ء سے ۴۷۹۱ء تک ڈاکٹر عبدالسلام حکومت پاکستان کے اعلیٰ درجے کے سائنسی مشیر رہے اور اس دوران آپ نے ملک کا بنیادی سائنسی ڈھانچہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ نے نہ صرف نظریاتی اور ذراتی طبیعات کی ترقی میں کردار ادا کیا بلکہ ملک کی اعلیٰ سائنسی ریسرچ کی وسعت اور گہرائی کے لیے کام کیا۔ اس کے علاوہ آپ پاکستانی سائنسی ادارے سپارکو(سپیس اینڈ اپر ایٹموسفئیر ریسرچ ) کے بانی

ڈائریکٹر تھے۔آپ نے پاکستان ایٹمک انرجی کمیشن میںنظریاتی طبیعات( تھیوریٹکل فزکس) گروپ قائم کیا۔ملک کے سائنسی مشیر کی حیثیت سے آپ پاکستان کے ایٹمک بم پروجیکٹ کی ترقی کے لیے بااثرشخصیت رہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو اس پروگرام کے ’سائنسی باپ‘‘ کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔نومبر ۱۷۹۱ ء میں عبدالسلام نے ذلفقار علی بھٹو سے ان کی رہاشگاہ میں ملاقات کی اور بھٹو کے مشورے پر۱۷۹۱ء کی پاک ہند موسم سرما کی جنگ سے بچائو کے لیے آپ امریکہ روانہ ہوئے۔آپ نے امریکہ کا سفر کیا اور مینھٹن پروجیکٹ کے

حوالے سے سانئسی ادب اور ایٹمک بم میں استعمال ہونے والا حساب لے کر پاکستان واپس آئے۔ ۔ غرض ایٹمک بم پروجیکٹ اور ملکی سائنسی اور طبیعاتی ترقی کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہے۔ ۴۷۹۱ء میں آپ پاکستان پارلیمنٹ کے پیش کردہ بل پر احتجاجی طور پر وطن سے روانہ ہوگئے۔ اس بل میں احمدیا تحریک کے اراکان جن سے عبدالسلام تعلق رکھتے تھے کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔ ۸۹۹۱ء میںملک کے ایٹمی ٹیسٹ کے بعد حکومت ِپاکستان نے ’’پاکستان کے سانئسی ماہرین‘‘ کے ایک اہم حصے کے طور پر ڈاکٹر عبدالسلام کی خدمات کو خراج تحسین پیش

کرنے کے لیے ایک یادگار سٹیمپ جاری کی ۔ عبدالسلام پہلے مسلم نہ سہی لیکن پہلے پاکستانی نوبل انعام یافتہ ہیں۔ پاکستان اور تیسری دنیا کے ممالک کے لیے سانئسی ترقی میں آپ کا کردار ہمیشہ یادگار رہے گا۔ ملک و قوم اور طبیعاتی برادری کے لیے آپ کی شخصیت اور خدمات قابل ِفخر ہیں۔
تحریر:عاصمہ عزیز

اپنا تبصرہ بھیجیں