آڑو میں چھپے قدرت کے راز ، جانئے انتہائی اہم معلومات

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)گرمیاں آتے ہی پھلوں کی بہتات ہوتی ہے. ہم انہیں کھا کر مزہ اور صحت دونوں حاصل کرتے ہیں.بازار میں میٹھے آم، رسیلے تربوز کے علاوہ کھٹ مٹھا آڑو بھی آسانی سے دستیاب ہوتا ہے. جب ہم ان پھلوں کو پابندی سے کھاتے ہیں تو ہمارا مزاج معتدل رہتا ہے اور گرمی ہمیں صحت بخش اجزا ہوتے ہیں، لہذا انہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے . آئیے ہم ذیل میں جائزہ لیتے ہیں کہ آڑو کس حدتک صحت کے لئے مفید ہے اور ہمیں کیا فائدے پہنچاتا ہے. آڑو اس خاندان سے تعلق رکھتا ہے، جس سے چیری اور خوبانی تعلق رکھتے ہیں. یہ

پھل رسیلا اور اس میں پیلا گودا ہوتا ہے. آڑو میں گھٹلی ہوتی ہے ، جسے کھایا نہیں جاسکتا. آڑو میں سب سے پہلے چین میں کاشت کیا گیا تھا. اس کے بعد یہ ساری دنیا میں کاشت کیا جانے لگا.
بینائی کے لئے مفیدہے:
آڑو میں حیاتین الف اورج (وٹامنز اے اور سی)ہوتی ہیں. اس کے علاوہ اس میں بیٹا کیروٹین بھی پائی جاتی ہیں، جس سے بینائی کو فائدہ پہنچتا ہے. چناں چہ معالج کہتے ہیں کہ جس کی بینائی کم زور ہو، اسے پابندی سے آڑو کھانا چاہیے. بیٹاکیروٹین رنگ دینے والا مادہ ہے، جوگاجر میں بھی پایا جاتا ہے. یہ پھلوں اور سبزیوں کو سرخ نارنجی اور پیلا رنگ فراہم کرتا ہے. بیٹا کیروٹین پردہّ چشم کو توانائی دیتی ہے. اور آزاد اصلیوں کا خاتمہ کرتی ہے. آڑو خون کی روانی کو تیز کرتا ہے، جس کی بنا پر بینائی بہتر ہوجاتی ہے. اس کے علاوہ موتیا بند ہونے بند ہونے کا اندیشہ بھی کم ہوجاتا ہے.
وزن کو قابو میں رکھتا ہے:
آڑو ان افراد کے لئے مفید ہے، جو فربہ نہیں ہونا چاہتے. آڑو میں حرارے کم ہوتے ہیں اور چکنائی بالکل نہیں ہوتی ، لیکن اس میں حیاتین اور معدنیات خوب ہوتی ہیں. آڑو کو کسی بھی حالت میں کھائیں، یہ مزہ دیتا ہے. اسے سلاد میں بھی ڈالا جاسکتا ہے. اگر آپ ڈائٹنگ کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں اور صرف ہلکی پھلکی توانائی بخش چیزیں کھانا چاہتے ہوں تو آڑو کھانا نہ بھولیے.
سرطان کا ازالہ کرتا ہے:
ایسے آزاد ا اصلیے جو سرطان پیدا کرتے ہیں، آڑوان کا خاتمہ کرتا ہے. اس میں ایسے مرکبات پائے جاتے ہیں، جو مانع سرطان اور مانع رسولی ہوتے ہیں. چناں چہ یہ پھیپڑوں ، سینے اور بڑی آنت کا سرطان نہیں ہونے دیتا. بیٹا کیروٹین خاص طور پر پھیپھڑوں کے سرطان سے محفوظ رکھتی ہے.
جِلد کی حفاظت کرتا ہے: آڑو میں شامل حیاتین الف اور ج ہمیں صحت مند اور توانا رکھتی ہیں. اس کے علاہ آڑو جلد کو بڑھاپا طاری نہیں ہونے دیتا. جلد پر پڑی جھڑیاں گھٹاتا ہے. چناں چہ بڑھاپے کو روکنے والی جتنی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں، ان میں آڑو کو شامل کیا جاتا ہے. یہ جلد کی بافتوں کو حیاتِ نو بخشتا ہے، لہذا آڑو کھانے سے خشک جلد کو فائدہ پہنچتا ہے. یہ ان افراد کے لیے بھی مفید ہے ، جو دھوپ میں کام کرتے ہیں، اس لیے کہ یہ بالاے بنفشی شعاعوں کے مضر اثرات سے محفوظ رکھتا ہے. آڑو کو کھانے کے علاوہ اسے پیس کر چہرے پر بھی لگایا جاتا ہے. اگر آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے بن گئے ہوں تو چہرے پر اس کا ماسک لگانا چاہیے، حلقے بن گئے ہوں تو چہرے پر اس کا ماسک لگانا چاہیے.حلقے چند دنوں میں ختم ہوجائیں گے. آڑو کھانے سے جلد چکنی اور ملائم رہتی ہے.
دل کے لیے مفید:
آڑوان افراد کے لیے بھی فائدہ مند ہے، جن کا کولیسٹرول بڑھتا رہتا ہے. کولیسٹرول بڑھنے سے ذیا بیطس ہوجاتی ہے یا دل کی بیماریاں ہونے لگتی ہیں. آڑو میں یہ خاصیت ہوتی ہے کہ وہ خراب کولیسٹرول کو گھٹاتا اور اچھے کولیسٹرول میں اضافہ کرتا ہے. آڑو میں شامل ”فیولک“ نامی مرکبات خراب کولیسٹرول کے تکسیدی عمل کا خاتمہ کردیتے ہیں، اس طرح سے یہ دل کے لیے صحت بخش ہے.
آڑو میں پوٹاشیئم کی کثرت اور سوڈئیم کی کمی کی بنا پر جسم میں پانی کا توازن قائم رہتا ہے، جس سے بلڈ پریشر کا شکار رہتے ہوں، انھیں آڑو ضرور کھانا چاہیے. آڑو میں جو معدنیات پائی جاتی ہیں، ان میں جست ، میگنیزیئم اور فولاد شامل ہیں. اس معدنیات سے خون میں سرخ ذرّات بنتے ہیں.
قوت مدافعت میں اضافہ کرتا ہے:
آڑو قوت مدافعت میں اضافہ کرتا ہے، اس لیے ہمیں بہت سے بیماریوں سے بچاتا ہے. اس میں شامل جست اور دوسری حیاتین ، مثلاََ الف، ب،ا،ب۲ اور ج کی وجہ سے ہمارے جسم کا مدافعتی نظام مضبوط ہوجاتا ہے. حیاتین ج کی بنا پر ہم نزلے زکام سے محفوظ رہتے ہیں. ماحولیاتی تعدیے (انفیکشن) سے بھی آڑو ہمیں محفوظ رکھتا ہے.
نظامِ ہضم کو بہتر بناتا ہے:
آڑو میں ریشہ مناسب مقدار میں ہوتا ہے، جس سے قبض ختم ہوجاتا ہے اور بڑی آنت (قولون) درست رہتی ہے. یہ پیٹ کے زخم (السر)کو بھی مندمل کرتا ہے. پیٹ، بڑی آنت، گردوں اور جگر سے زہریلے مادّوں کو بھی خارج کرتا ہے. گردوں کے علاوہ یہ مثانے کو بھی صاف رکھتا ہے.
سرخ ذرّات بڑھاتا ہے:
آڑو میں چوں کہ فولاد وافر ہوتا ہے، اس لیے یہ ایسے افراد کے لیے نہایت مفید ہے، جو فولاد کی کمی کا شکار ہوں یا جن کے خون میں سرخ ذرات کی کمی ہو. بنیادی طور پر فولاد ہیموگلوبن کی افزائش کرتا ہے، اس طرح سے جسم میں سرخ ذرّات بڑھ جاتے ہیں اور خون کی کمی میں مبتلا افراد کو فائدہ پہنچتا ہے. حیاتین ج کی وجہ سے جسم میں فولاد آسانی سے جذب ہوجاتا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں