توہین عدالت اور تقاریر، نواز شریف اور مسلم لیگ ن پر پابندی؟ بڑا اقدام اٹھا لیا گیا

لاہور ( این این آئی) سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف توہین عدالت اور ان کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی ۔سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں دائر درخواست گزار میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نواز شریف نے اپنی نااہلی کو سازش قرار دیا ہے اور وہ مسلسل سپریم کورٹ پر سازش کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔درخواست میں کہا گیا کہ سابق وزیراعظم کی تقاریر توہین عدالت اور غداری کے زمرے میں آتی ہیں،سپریم کورٹ نواز شریف کے تقاریر نشر کرنے پر پابندی لگائے اور ان کیخلاف توہین

عدالت کی کارروائی کرے۔دریں اثناء قومی اسمبلی کی نشست حلقہ این اے 120 کے ضمنی انتخاب کے لئے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی الیکشن کمیشن میں چیلنج کر دیئے گئے۔ ایڈ ووکیٹ سرفراز شاہ نے الیکشن کمیشن میں کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی چیلنج کرتے ہوئے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ سپریم کورٹ میں نواز شریف کو نا اہل قرار دیا گیا ہے جس کے بعد اب مسلم لیگ (ن) کا نام الیکشن کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔درخواست گزار کا کہنا ہے کہ لفظ (ن) کا مطلب نواز ہے اور نواز شریف کے حوالے سے سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ وہ صادق اور امین نہیں ہیں لہٰذا نواز شریف کا نام الیکشن سمبل کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا ۔درخواست گزار کا کہنا ہے کہ کلثوم نواز این اے 120میں مسلم لیگ (ن) کے نام پر الیکشن لڑرہی ہیں اور انتخابی مہم میں بھی یہ ہی نام استعمال کیا جا رہا ہے لہٰذا الیکشن کمیشن کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی مسترد کرے سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں دائر درخواست گزار میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نواز شریف نے اپنی نااہلی کو سازش قرار دیا ہے اور وہ مسلسل سپریم کورٹ پر سازش کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں